آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے : امجد اسلام امجد
آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے
کھڑکی سے مہتاب گزرنے والا ہے
صدیوں کے ان خواب گزیدہ شہروں سے
مہرِ عالم تاب گزرنے والا ہے
جادو گر کی قید میں تھے جب شہزادے
قصے کا وہ باب گزرنے والا ہے
ق
سناٹے کی دہشت بڑھتی جاتی ہے
بستی سے سیلاب گزرنے والا ہے
دریاؤں میں ریت اُڑے گی صحرا کی
صحرا سے گرداب گزرنے والا ہے
مولا جانے کب دیکھیں گے آنکھوں سے
جو موسم شاداب گزرنے والا ہے
ہستی امجد دیوانے کا خواب سہی
اب تو یہ بھی خواب گزرنے والا ہے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
