امجد اسلام امجد
اردو شاعر ، ڈراما نگار ، نقاد ،4 اگست، 1944ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1967ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فسٹ ڈویژن میں ایم۔ اے اردو کیا۔ 1968ء تا 1975ء ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد رہے۔ اگست 1975ء میں پنجاب آرٹ کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر ہوئے ۔ 1975ء میںٹی وی ڈراما (خواب جاگتے ہیں ) پر گریجویٹ ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ مشہور ڈراموں میں وارث ، دن ، فشار ، شامل ہیں۔ ایک شعری مجموعہ برزخ اور جدید عربی نظموں کے تراجم عکس کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تنقیدی مضامین کی ایک کتاب (تاثرات) بھی ان کی تصنیف کردہ ہے۔
منتخب نظمیں
- اُلجھن
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں
- بارش اور ہم
- تجدید
- تُم
- خلافِ قانون
- کرو، جو بات کرنی ہے
- مکاں اور مکیں
- ہم لوگ نہ تھے ایسے
- ہے کوئی نظر والا
منتخب غزلیں
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون!
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے
- اوروں کا تھا بیان تو موجِ صدا رہے
- ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو
- بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی
- پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
- تارا تارا اُتر رہی ہے رات سمندر میں
- جو کچھ دیکھا جو سوچا ہے وہی تحریر کر جائیں
- چہرے پہ مرے زُلف کو پھیلاؤ کسی دن
- حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
- حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے
- خواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہوں
- دامِ خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے
- دِل کو حصارِ رنج و اَلم سے نکال بھی
- زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے
- شمعِ غزل کی لَو بن جائے، ایسا مصرعہ ہو تو کہو
- کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زر نگار سے خواب دے
- مقتل میں بھی اہل جنوں ہیں کیسے غزل خواں، دیکھو تو
- میں بے نوا ہوں ،صاحبِ عزت بنا مجھے
- نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں کہیں
- نہ آسماں سے نہ دُشمن کے زور و زَر سے ہُوا
- نہ ربط ہے نہ معانی ، کہیں تو کس سے کہیں!
- ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں، فرصت کتنی ہے
- ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہے
- ہر قدم گریزاں تھا، ہر نظر میں وحشت تھی
- یہ دشتِ ہجر، یہ وحشت، یہ شام کے سائے
- یہ کون آج مِری آنکھ کے حصار میں ہے
- یہ گرد بادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن
