اختر عثمان
اختر عثمان جدید اردو شاعری کا ایک بڑا نام ہیں۔ ۴ اپریل ۱۹۶۹ کو پیدا ہوئے۔ حلقہ اربابِ ذوق کی طرف سے انہیں نشانِ اعزاز دیا گیا۔ اب تک شاعری کے چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں: اپنی اپنی صلیب، قلمرو، ہمکلام، اور کچھ بچا لائے ہیں۔
منتخب نظمیں
منتخب غزلیں
- آتش ہو ، اور معرکہء خیر و شر نہ ہو
- ابھی تو پر بھی نہیں تولتا اڑان کو میں
- الزام اسی پر ہے برہنہ بدنی کا
- بھنور، برہم ہواہیں، گم کنارہ کیا بنے گا
- پھر اتارے گا وہ افلاک سے خاک
- تپش کا ہر حوالہ نار زادہ چھین لیتا ہے
- جو وہم ہے، ڈر ہے، پسِ پردہ نہیں نکلا
- حوالے کھو گئے، مردہ اجالے ہو گئے ہیں
- خاک اُڑتی ہے چار سُو اے دوست
- دل نہیں مانتا، مجبور ہیں، تب مانگتے ہیں
- دل و نگاہ میں اک بار پھر ٹھنی ہوئی ہے
- صدائے صورِ اسرافیل کا غم کھا گیا ہے
- عجیب حالتِ دل ہو گئی رہائی کے وقت
- کپاس دھنکی گئی ہے گالے پڑے ہوئے ہیں
- کیا کیا ضرورتوں سے فزوں کھا گئی ہوا
- نہیں زمیں پہ کسی کا بھی اعتبار مجھے
