اختر حسین جعفری
ان کی نظم رنگوں سے تشکیل پاتی ہے ۔ اس کی شاعری کا فرد اپنے تصورات میں گم ہو چکا ہے۔ اس کی اکائی کہیں رہ گئی ہے۔ اب وہ فرد خوف ، تنہائی اور آسیب کے حصاروں میں گھرا اپنی معنویت کو تلاش کرتا ہے۔ اس تلاش کے لیے اُس نے دو طریقے اپنائے ہیں ایک فرد سے ہو کر اور دوسرا فطرت سے ہو کر جاتا ہے۔ لہٰذا وہ کبھی اپنے آپ سے مکالمہ کرتا ہے اور کبھی فطرت سے مکالمہ کرتا ہے۔
