اعتبار ساجد
اعتبار ساجد
منتخب نظمیں
- آخر شب کا انتظار
- اکیلی رات
- امانت
- ان کی خوشی کی خاطر
- ایک لڑکی
- ترسیدہ
- تم سے پہلے بھی
- صبح بخیر
- ہوا کے سامنے
- ویسا چاند نہ مانگو
منتخب غزلیں
- آخر ہم نے کب دینے والے کا رزق حلال کیا
- آنگن میں ستاروں کو سجانے کے یہ دن تھے !
- اب اس کو وہ بھولی باتیں یاد دلانا ٹھیک نہیں
- ابھی آگ پوری جلی نہیں، ابھی شعلے اونچے اٹھے نہیں
- اختلاف اس سے اگر ہے تو اسی بات پہ ہے
- انہی رسموں سے رواجوں سے بغاوت کی تھی
- بھری محفل میں تنہائی کا عالم ڈھونڈ لیتا ہوں
- بھیڑ ہے برسربازار کہیں اور چلیں
- بہت گہرا ہے اپنا تاجرانہ پیار آپس میں
- پھر رات بھر کیا جاگنا جب دل کو وحشت ہی نہیں
- پھول تھے رنگ تھے ،لمحوں کی صباحت ہم تھے
- تری طرح کوئی بھی غمگسار ہو نہیں سکا
- تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں
- جانے کس چاہ کے، کس پیار کے گن گاتے ہو
- جلتے فانوس کی روشنی چھن گئی
- چاندی رات میں ہوا کا جھونکا ٹکرایا چوباروں سے
- چھوٹے چھوٹے سے مفادات لئے پھرتے ہیں
- چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ
- ذرا ٹھہرو، دُعا کے ساتھ ہی انعام لے جانا
- رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا
- رویے اور فقرے ان کے پہلو دار ہوتے ہیں
- سنگ مرمر کی طرح سرد نہیں لگتے ہیں
- فصل پک جائے تو کیا اس کی حفاظت نہ کریں
- فقط گھر کی محبت کیا کرے گی
- کبھی کسی شجر کی اوٹ میں،کبھی کھنڈر میں ہے
- کسی کا نام سنتے ہی لرز اٹھتے ہیں لب اس کے
- کسی کے ہجر میں گر ہم بھی مر لیتے تو کیا لیتے
- کھو چکے ہیں جس کو،وہ جاگیر لے کر کیا کریں
- کہیں گھر بار حائل ہے کہیں سنسار حائل ہے
- کوئی بھیڑ جیسی یہ بھیڑ ہے کسی دوسرے کا پتا نہیں
- کوئی رُقعہ نہ لفافے میں کلی چھوڑ گیا
- گئی رُت کی وحشتوں کا یہ خراج مانگتی ہے
- گر یہی تلخی یہی تکرار بڑھتی جائے گی
- گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا
- مال و زر کے کسی انبار سے کیا لینا ہے
- مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں
- مجھے کیا خبر تھی سچ مچ یہ سمے گزر رہا ہے
- مجھے ملنے جب آیا،ساتھ پہرے دار لے آیا
- مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گا
- مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا
- مشکل یہ آ پڑی تھی ہمارے نباہ میں
- مگن کس دھن میں اپنے آپ کو دن رات رکھتا ہے
- میں نے راتوں کو بہت سوچا ہے تم بھی سوچنا
- نری خوش فہمیاں ہوتی ہیں، یکسر کب بدلتا ہے
- نہ اب وہ گھر کے مکیں ہیں نہ بام ودرویسے
- نہ دوائیں پر اثر ہیں نہ دعائیں کیا بتائیں
- نہ گمان موت کا ہے ،نہ خیال زندگی کا
- ہم کو کیا اپنے خریدار میسر آتے
- ہم مر گئے کہ پیاس میں پانی نہیں ملا
- ہمارا حال کچھ یوں ہے ترے دربان کے آگے
- ہونٹوں کے دو پھول رکھے تھے اس نے جب پیشانی پر
- ہیں دھوپ کے نیزے بھی جعلی اشجار بھی یونہی لگتے ہیں
- وہ یکسر مختلف ہے منفرد پہچان رکھتا ہے
- یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں
- یہ حسیں لوگ ہیں، تو ان کی مروت پہ نہ جا
- یہ شعر کی دیوی ہے بہروپ تو دھارے گی
- یہ نہیں کہ میری محبتوں کو کبھی خراج نہیں ملا
- یونہی تنہا تنہا نہ خاک اُڑا،مری جان میرے قریب آ
