احمد فواد
منتخب نظمیں
- آفاق کے کنارے ۔ ۔ ۔
- ان دو آنکھوں ۔ ۔ ۔
- اور
- تازہ سینہ میں ۔ ۔ ۔
- چاندنی کی گفتگو
- خوبصورت آشنا۔ ۔ ۔
- خودغرض
- دل کے دروازہ پہ۔ ۔ ۔
- زندگی کیا ہے ۔ ۔ ۔
- گھوڑا گلی میں ایک شام
- یہ جو گہری اُداس۔ ۔ ۔
- یہ دل پاگل۔ ۔ ۔
منتخب غزلیں
- آ گیا آج وہ زمانہ بھی
- اب آسمان کے آگے نہ ہاتھ پھیلانا
- اپنے گھر کو بھی کہیں آگ لگاتا ہے کوئی
- احمق ہیں جو کہتے ہیں محبت کی جگہ ہے
- اداسیوں نے بنائے ہیں گھونسلے اس میں
- اُس پر اس کا اثر تو کیا ہوگا
- اُن نگاہوں کو ہم آواز کیا ہے میں نے
- انتا ہوں میں یہ سورج کا دیا بجھ جائے گا
- اور اُس کا نہ انتظار کرو
- بارشوں کے گھر بساتے ہیں پرندے اور درخت
- بجھ گئے تیری راہ تکتے ہوئے
- بجھ گئے ہیں جو دئے جلتے تھے اُن گالوں میں
- بدل گیا ہے وہ فرسودہ عاشقی کا نظام
- بس یہی سوچ کر گلہ بھی ہے
- بن کے چھایا نشہ تیرا نام
- بنامِ عدل مساوات چھوڑ جائے گا
- بھولے سے بھی آئے نہ کوئی چاہنے والا
- پھر آسمان کے نخرے اٹھا رہا ہوگا
- تجھ تک آنے کے لئے ہے یہ نشانی کافی
- تری نگاہ کا نیلم ترے لبوں کے عقیق
- تمہارے جانے کا صدمہ عظیم صدمہ ہے
- تمہارے لئے دل میں اب بھی جگہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر
- تمہارے لئے مسکراتی سحر ہے
- تیری گلی میں ظرف سے بڑھ کر ملا مجھے
- جب اونچے پہاڑوں سے اتر آتے ہیں دریا
- جب کلی نے لیا تیرا نام
- جس کو اپنانے میں اک عرصہ لگا
- جو بھی پیتا ہے پھر نہیں اٹھتا
- جو کبھی کہہ سکا نہ کہنے دے
- چاہنے والے خوب جیتے ہیں
- چھوڑ کر وہ جہاں چلا آیا
- خاک کو خاک میں ملا دے گا
- دریاؤں کی گپ شپ کا نشہ ایسا چڑھا ہے
- دل اسی بات پر خفا بھی ہے
- دل تجھے دیکھ دیکھ ڈولے گا
- دل کہاں جائے بچارہ زندگی مشکل میں ہے
- دل میں پوشیدہ کیا خزینے ہیں
- دنیا کی کسی بات کا قائل تو نہیں ہوں
- دھوپ ہو کر بچھا تیرا نام
- دو دن میں پھیل جائے گی اس درد کی خبر
- زمین ان کی ہر اک بات مان لیتی ہے
- زمیں سے خوب لڑا آسماں سے کچھ نہ کہا
- سمندروں سے کوئی کام ہی نہیں پڑتا
- سنتا ہے کوئی بات نہ کہتا ہے آسماں
- سوال ایک تھا لیکن ملے جواب بہت
- شاعری کو دکاں بنا دوں گا
- شہر کی اس تنگ دامانی سے یہ دل تنگ ہے
- صحرا میں گھومنے کا مجھے یونہی شوق ہے
- عالمِ نزع میں اب تیرہ شبی لگتی ہے
- فقط اک بار وہ صورت دکھا دے
- کچھ تو ظالم تری نگہ بھی ہے
- کس نے اس طرح مرے دل کی طرح ڈالی ہے
- کہکشاں میں جگہ بنا لوں گا
- کہیں پہ جا کے محبت کو دفن کر دوں گا
- کوئی اس سے یہاں بچا بھی ہے
- کوئی غم یا خوشی نہیں ہو گی
- گھر کے باہر گھر کے اندر جو بھی ہو
- لمحہ لمحہ کی آنکھ پُر نم ہے
- مٹی سے اٹھا کر مجھے خورشید بنایا
- مجھ سے پھر وہ جدا ہو رہا ہے
- محبت پر یہاں پہرہ رہے گا
- میرے دل میں اگر نہ گھر کرتا
- میں اپنا درد ہوا کے سپرد کرتا رہا
- میں سوچتا تھا کسی دن تجھے بھلا دوں گا
- میں کس کے کہنے پہ اس خاکداں میں آیا ہوں
- میں کن چشموں سے ان کا حال پوچھوں
- نظر آیا ہے وہ آ کر بنوں میں
- نکلو گے مرے دل سے تو جل جاؤ گے فوراً
- نہ اب شعلے بھڑکتے ہیں دلوں میں
- نہیں قبول مجھے آفتاب کی مرضی
- نہیں یہ ذہن تنہا الجھنوں میں
- نیلا اسی لئے نظر آتا ہے آسماں
- ہمارے دل کی بجا دی ہے اُس نے اینٹ سے اینٹ
- ہوا نے چھین لیا آ کے میرے ہونٹوں سے
- ہے سمندر کہیں چلّاتی ہوا ہے پانی
- وہ اس زمین پہ رہتی تھی آسماں کی طرح
- وہ دبدبہ نہ اجالا نہ شان و شوکت ہے
- وہ مہر منور ہے کہ یہ ماہ مبیں ہے
- یہ سعادت مجھے مولا نے عنایت کی ہے
- یہاں ہر وقت یہ میلہ رہے گا
