یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت : احمد فراز
یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت
وگرنہ ترک تعلق کی صورتیں تھیں بہت
ملے تو ٹوٹ کے روئے ، نہ کھل کے باتیں کیں
کہ جیسے اب کے دلوں میں کدورتیں تھیں بہت
بھلا دیے ہیں ترے غم نے دکھ زمانے کے
خدا نہیں تھا تو پتھر کی مورتیں تھیں بہت
دریدہ پیرہنوں کا خیال کیا آتا
امیر شہر کی اپنی ضرورتیں تھیں بہت
فراز دل کو نگاہوں سے اختلاف رہا
وگرنہ شہر میں ہم شکل صورتیں تھیں بہت
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
