وہ شام کیا تھی : احمد فراز
وہ شام کیا تھی جب اس نے بڑی محبت سے
کہا کہ تو نے یہ سوچا بھی ہے کبھی احمد
خدا نے کتنی تجھے نعمتیں عطا کی ہیں
وہ بخششیں کہ ہیں بالا تر از شمار و عدد
یہ خال و خد یہ وجاہت یہ تندرست بدن
گرجتی گونجتی آواز استوار جسد
بسان لالۂ صحرا تپاں تپاں چہرہ
مثال نخل کہستاں دراز قامت و قد
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
