وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میںستارے لے کر : احمد فراز
وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میںستارے لے کر
جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر
چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے
پیڑ گرتا ہے تو آ جاتے ہیں آرے لے کر
وہ جو آسودۂ ساحل ہیں انہیں کیا معلوم
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر
ایسا لگتا ہے کہ ہر موسم ہجراں میں بہار
ہونٹ رکھ دیتی ہے شاخوں پہ تمہارے لے کر
شہر والوں کو کہاں یاد ہے وہ خواب فروش
پھرتا رہتا تھا جو گلیوں میں غبارے لے کر
نقدِ جاں صرف ہوا کلفتِ ہستی میں فراز
اب جو زندہ ہیںتو کچھ سانس ادھارے لے کر
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
