روزنا جرمن نژاد : احمد فراز
روزنا جرمن نژاد
اس کے ہونٹوں میں حرارت
جسم میں طوفاں
برہنہ پنڈلیوں میں آگ
نیت میں فساد
رنگ و نسل و قامت و قد
سرزمین و دین کے سب تفرقوں سے بے نیاز
ہر کسی سے بے تکلف، ایک حد تک دلنواز
وہ سبھی کی ہم پیالہ، ہم نفس
عمر شاید بیس سے اوپر برس یا دو برس
روزنا جرمن نژاد
اور دیکھنے والوں میں سب
اس کی آسودہ نگاہی، بے محابا میگساری کے سبب
پیکر تسلیم و سر تا پا طلب
ان میں ہر اک کی متاع کل
بہائے التفات نیم شب
روزنا جرمن نژاد
اور اس کا دل۔ ۔ ۔ زخموں سے چُور
اپنے ہمدردوں سے ہمسایوں سے دور
گھرکی دیواریں نہ دیواروں کے سایوں کا سرور
جنگ کے آتش کدے کا رزق کب سے بن چکا
ہر آہنی بازو کا خوں
ہر چاند سے چہرے کا نور
خلوتیں خاموش و ویراں
اور دہلیز پر اک مضطرب مرمر کا بت
ایستا وہ ہے بچشم ناصبور
کون ہے اپنوں میں باقی
تو سن راہ طلب کا شہسوار
ہر دریچے کا مقدر، انتظار
اجنبی مہمان کی دستک خواب
شاید خواب کی تعبیر بھی
چند لمحوں کی رفاقت جاوداں بھی
حسرت تعمیر بھی
الوداعی شام، آنسو، عہد و پیماں
مضطرب صیاد بھی، نخچیر بھی
کون کر سکتا ہے ورنہ ہجر کے کالے سمندر کو عبور
اجنبی مہماں کا اک حرف فوار
نومید چاہت کا غرور
روزنا اب اجنبی کے ملک میں خود اجنبی
پھر بھی چہرے پر اداسی ہے نہ آنکھوں میں تھکن
اجنبی کا ملک جس میں چار سو
تاریکیاں ہی خیمہ زن
سب کے سایوں سے بدن
روزنا مرمر کا بت
اور اس کے گرد
ناچتے سائے بہت
سب کے ہونٹوں پر وہی حرف وفا
ایک ہی سب کی صدا
وہ سبھی کی ہم پیالہ، ہم نفس
عمر شاید بیس سے اوپر برس یا دو برس
اس کی آنکھوں میں تجسس اور بس
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
