؟؟؟ : احمد فراز
اب وہ کہتے ہیں تم کوئی چارہ کرو
جب کوئی عہد و پیماں سلامت نہیں
اب کسی کنج میں بے اماں شہر کی
کوئی دل کوئی داماں سلامت نہیں
تم نے دیکھا ہے سر سبز پیڑوں پہ اب
سارے برگ و ثمر خار و خس ہو گئے
اب کہاں خوبصورت پرندوں کی رت
جو نشیمن تھے اب وہ قفس ہو گئے
صحن گلزار خاشاک کا ڈھیر
اب درختوں کے تن پر قبائیں کہاں
سرو و شمشاد سے قمریاں اڑ گئیں
شاخ زیتون پر فاختائیں کہاں
شیخ منبر پہ نا معتبر ہو چکا
رند بدنام کوئے خرابات میں
فاصلہ ہو تو ہو فرق کچھ بھی نہیں
فتوہ دیں میں ہو اور کفر کی بات میں
اب تو سب رازداں ہمنوا نامہ بر
کوئے جانا ں کے سب آشنا جا چکے
کوئی زندہ گواہی بچی ہی نہیں
سب گنہگار سب پارسا جا چکے
اب کوئی کس طرح قم بہ اذنی کہے
اب کہ جب شہر کا شہر سنسان ہے
حرف عیسیٰ نہ صور اسرافیل ہے
حشر کا دن قیامت کا میدان ہے
مرگ انبوہ بھی جشن ساماں نہیں
اب کوئی قتل گاہوں میں جائے تو کیا
کب سے توقیر لالہ قبائی گئی
کوئی اپنے لہو میں نہائے تو کیا
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
