پھرے گا تو بھی یونہی کو بکو ہماری طرح : احمد فراز
پھرے گا تو بھی یونہی کو بکو ہماری طرح
دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح
کبھی تو سنگ سے پھوٹے گی آبجو غم کی
کبھی تو ٹوٹ کے روئے گا تو ہماری طرح
پلٹ کے تجھ کو بھی آنا ہے اس طرف لیکن
لٹا کے قافلۂ رنگ و بو ہماری طرح
یہ کیا کہ اہل ہوس بھی سجائے پھرتے ہیں
دلوں پہ داغ جبیں پر لہو ہماری طرح
وہ لاکھ دشمن جاں ہو مگر خدا نہ کرے
کہ اس کا حال بھی ہو ہُو بہو ہماری طرح
ہمی فراز سزاوار سنگ کیوں ٹھرے
کہ اور بھی تو ہیں دیوانہ خو ہماری طرح
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
