نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں : احمد فراز
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
عجب سفر ہے کہ بس ہمسفر کو دیکھتے ہیں
نہ پوچھ جب وہ گزرتا ہے بے نیازی سے
تو کس ملال سے ہم نامہ بر کو دیکھتے ہیں
تیرے جمال سے ہٹ کر بھی ایک دنیا ہے
یہ سیر چشم مگر کب ادھر کو دیکھتے ہیں
عجب فسونِ خریدار کا اثر ہے کہ ہم
اسی کی آنکھ سے اپنے ہنر کو دیکھتے ہیں
کوئی مکاں کوئی زنداں سمجھ کے رہتا ہے
طلسم خانۂ دیوار و در کو دیکھتے ہیں
فراز در خورِ سجدہ ہر آستانہ نہیں
ہم اپنے دل کے حوالے سے در کو دیکھتے ہیں
وہ بے خبر میری آنکھوں کا صبر بھی دیکھیں
جو طنز سے میرے دامانِ تر کو دیکھتے ہیں
یہ جاں کنی کی گھڑی کیا ٹھہر گئی ہے کہ ہم
کبھی قضا کو کبھی چارہ گر کو دیکھتے ہیں
ہماری دربدری کا یہ ماجرا ہے کہ ہم
مسافروں کی طرح اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
فراز ہم سے سخن دوست، فال کے لئے بھی
کلامِ غالب آشفتہ سر کو دیکھتے ہیں
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
