کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی : احمد فراز
کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
وگرنہ زندگی ہم نے بھی کیا سے کیا نہیں کی
ہر اک سے کون محبت نباہ سکتا ہے
سو ہم نے دوستی یاری تو کی ، وفا نہیں کی
شکستگی میں بھی پندارِ دل سلامت ہے
کہ اس کے در پہ تو پہنچے مگر صدا نہیں کی
شکایت اس کی نہیں ہے کہ اس نے ظلم کیا
گلہ تو یہ ہے کہ ظالم نے انتہا نہیں کی
وہ نا دہند اگر تھا تو پھر تقاضا کیا
کہ دل تو لے گیا قیمت مگر ادا نہیں کی
عجیب آگ ہے چاہت کی آگ بھی کہ فراز
کہیں جلا نہیں کی اور کہیں بجھا نہیں کی
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
