جہاں کے شور سے گھبرا گئے کیا : احمد فراز

جہاں کے شور سے گھبرا گئے کیا
مسافر گھر کو واپس آ گئے کیا ؟

نہ تھی اتنی کڑی تازہ مسافت
پرانے ہم سفر یاد آ گئے کیا ؟

یہاں‌کچھ آشنا سی بستیاں تھیں
جزیروں کو سمندر کھا گئے کیا؟

مری گردن میں باہیں ڈال دی ہیں
تم اپنے آپ سے اکتا گئے کیا ؟

نہیں آیا مرا جانِ بہاراں
درختوں پر شگوفے آ گئے کیا

جہاں میلہ لگا ہے قاتلوں کا
فراز اس شہر میں تنہا گئے کیا؟

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

احمد فراز کی مزید تخلیقات

احمد فراز کی تمام تخلیقات