جہاں بھی جانا تو آنکھوں میں خواب بھر لانا : احمد فراز
جہاں بھی جانا تو آنکھوں میں خواب بھر لانا
یہ کیا کہ دل کو ہمیشہ اداس کر لانا
میں برف برف رُتوں میں چلا تو اس نے کہا
پلٹ کے آنا تو کشتی میں دھوپ بھر لانا
بھلی لگی ہمیں خوش قامتی کسی کی مگر
نصیب میں کہاں اس سرو کا ثمر لانا
پیام کیسا مگر ہو سکے تو اے قاصد
کبھی کوئی خبر یارِ بے خبر لانا
فراز اب کے جب آؤ دیارِ جاناں میں
بجائے تحفۂ دل ارمغانِ سر لانا
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
