گماں یہی ہے کہ دل خود ادھر کو جاتا ہے : احمد فراز

گماں یہی ہے کہ دل خود ادھر کو جاتا ہے
سو شک کا فائدہ اس کی نظر کو جاتا ہے

یہ دل کا درد تو عمروں کا روگ ہے پیارے
سو جائے بھی تو پہر دو پہر کو جاتا ہے

یہ حال ہے کہ کئی راستے ہیں پیش نظر
مگر خیال تری رہ گزر کو جاتا ہے

تو انوری ہے ، نہ غالب تو پھر یہ کیوں ہے فراز
ہر ایک سیل بلا تیرے گھر کو جاتا ہے

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

احمد فراز کی مزید تخلیقات

احمد فراز کی تمام تخلیقات