دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں : احمد فراز
دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں
ہم کہ تصویر بنے بس تجھے تکتے جاویں
چوب نم خوردہ کی مانند سلگتے رہے ہم
نہ تو تجھ پائیں نہ بھڑکیں نہ دہکتے جاویں
تیری بستی میں تیرا نام پتہ کیا پوچھا
لوگ حیران و پریشاں ہمیں تکتے جاویں
کیا کرے چارہ کوئی جب تیرے اندوہ نصیب
منہ سے کچھ بھی نہ کہیں اور سسکتے جاویں
کوئی نشے سے کوئی تشنہ لبی سے ساقی
تیری محفل میں سبھی لوگ بہکتے جاویں
مژدۂ وصل سے کچھ ہم ہی زخود رفتہ نہیں
اس کی آنکھوں میں بھی جگنو سے چمکتے جاویں
کبھی اس یارِ سمن بر کے سخن بھی سنیو
ایسا لگتا ہے کہ غنچے سے چٹکتے جاویں
ہم نوا سنجِ محبت ہیں ہر اک رُت میں فراز
وہ قفس ہو کہ گلستاں ہو، چہکتے جاویں
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
