دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے : احمد فراز
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے
رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے
مصحف رخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ
ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے
وہ مروت سے ملا ہے تو جھکادوں گردن
میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے
بے نوا شہر کا سایہ ہے مرے دل پہ فراز
کس طرح سے مری آشفتہ خیالی جائے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
