اے دل ان آنکھوں پر نہ جا : احمد فراز
اے دل ان آنکھوں پر نہ جا
جن میں وفورِ رنج سے
کچھ دیر کو تیرے لیئے
آنسو اگر لہرا گئے
یہ چند لمحوں کی چمک
جو تجھ کو پاگل کر گئ!
ان جگنوؤں کے نور سے
چمکی ہے کب وہ زندگی
جس کے مقدر میں رہی
صبحِ طلب سے تیرگی
کس سوچ میں گم سم ہے تو
اے بے خبر! ناداں نہ بن
تیری فسردہ روح کو
چاہت کے کانٹوں کی طلب
اور اس کے دامن میں فقط
ہمدردیوں کے پھول ہیں
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
