اب کس کا جشن مناتے ہو : احمد فراز
اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا
اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا
اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا
اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا
اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی
اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی
اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں
اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں
اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا
اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا
اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا
اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا
ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں
یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں
اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں
اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں
ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں
ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں
ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں
یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں
یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے
یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے
اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں
کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں
آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے
اس جشن میں میں بھی شامل ہوں نوحوں سے بھرا کشکول لیے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
