اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں : احمد فراز
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
اوّل اوّل کی محبت کے نشے یاد تو کر
بِن پیۓ ہی ترا چہرہ تھا گُلستاں جاناں
آخر آخر تو یہ عالم تھا کہ اب یاد نہیں
رگِ مِینا سُلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کِس قدر جلد بدل جاتے ہیں اِنساں جاناں
دل سمجھتا تھا کہ شاید ہو فسُردہ تُو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں
مدّتوں سے یہی عالم ۔۔ نہ توقع، نہ اُمید
دل پُکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں
زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے
ہم نے جیسی بھی گزاری ترا احساں جاناں
• — — — — — — — — — — — — — — — •
احمد فراز کی مزید تخلیقات
- ؟؟؟ نظم
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا غزل
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم غزل
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں غزل
- اب کس کا جشن مناتے ہو نظم
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں غزل
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون غزل
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں غزل
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو غزل
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں غزل
