عبد الحمید عدم
منتخب نظمیں
منتخب غزلیں
- آگہی میں اک خلا موجود ہے
- اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے
- اس کی پائل اگر چھنک جائے
- اس نے کہا کہ ھم بھی خریدار ھو گئے
- ایک عنوان کا تجسس ہے کہانی کے لئے
- تہی بھی ہوں تو پیمانے حسیں معلوم ہوتے ہیں
- جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
- چشمِ ساقی کے اشارات کی باتیں چھیڑو
- خالی ہے ابھی جام ، میں کچھ سوچ رہا ہوں
- دوستوں کے نام یاد آنے لگے
- زُلفِ برہم سنبھال کر چلئے
- زُلفِ برہم سنبھال کر چلئے
- ستارے بیخود و سرشار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
- شام ہوتی ہے دیا جلتا ہے میخانے کا
- ظلمت کا پھول مَے کے اجالے میں آگرا
- غم کا غبار آنکھ میں ایسے سما گیا
- غموں کی رات بڑی بے کلی سے گزری ہے
- کتنی بے ساختہ خطا ہوں میں
- کہاں سے چل کے اے ساقی کہاں تک بات پہنچی ہے
- کہرا کے جھوم جھوم کے لا ، مسکرا کے لا
- گلوں سے دوستی ہے ، شبنم ستانوں میں رہتا ہوں
- مطلب معاملات کا ، کچھ پا گیا ہوں میں
- میکدہ تھا ، چاندنی تھی ، میں نہ تھا
- مے نہیں قصرِ زندگانی ہے
- ہاں ہم ہیں وہاں ربط و کشش سے کام چلتا ہے
- ہم کچھ اس ڈھب سے ترے گھر کا پتا دیتے ہیں
- وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
- وہ فصلِ گل ، وہ لبِ جوئبار یاد کرو
- وہ فصلِ گل ، وہ لبِ جوئبار یاد کرو
- یوں جستجوئے یار میں آنکھوں کے بل گئے
