عباس تابش
منتخب نظمیں
منتخب غزلیں
- اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں
- اک ٹہنی پہ پھولے پھلے ہیں پاکستان اور میں
- اے دوست دعا اور مسافت کو بہم رکھ
- بادباں کب کھولتا ہوں پار کب جاتا ہوں میں
- پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے
- تو پرندے مار دے سرو و صنوبر مار دے
- تیرے گُمنام اگر نام کمانے لگ جائیں
- جب اپنی اپنی محرومی سے ڈر جاتے تھے ہم دونوں
- جہانِ مرگِ صدا میں ایک اور سلسلہ ختم ہو گیا ہے
- دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
- دہکتے دن میں عجب لطف اُٹھایا کرتا تھا
- ساری دُنیا میں مرے جی کو لگا ایک ہی شخص
- شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا
- لفظوں سے چھاؤں وضع کی سطروں کو سائباں کیا
- لوگ جائیں یا ترا پیچھا کریں
- میں اس کی آہٹیں چُن لوں، میں اس کو بول کر دیکھوں
- نہ تجھ سے ہے گلہ نہ آسمان سے ہوگا
- ہمیں پچھاڑ کے کیا حیثیت تمھاری تھی
- ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا
- وہ بھولتا ہے نہ دل میں اتارتا ہے مجھے
- یار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہے
- یہ ان دنوں کا ذکر ہے اک بادشاہ تھا
- یہ عجب ساعتِ رخصت ہے کہ ڈر لگتا ہے
