فیض احمد فیض
بیسویں صدی کی اُردو شاعری میں اقبال کے بعد جو نام اُبھر کر سامنے آئے اُن میں نمایاں ترین نام فیض احمد فیض کا ہے۔
سن تیس کے عشرے میں شروع ہونے والی اُن کی شاعری سن اسّی کی دہائی تک جاری رہی اور یوں اُن کے کلام نے نصف صدی کا عرصہ اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔۔۔ اور یہ کوئی معمولی عرصہ نہ تھا بلکہ حادثات، سانحات اور انقلابات کا ایک ایسا سلسلہ تھا جس کی مثال تاریخِ عالم میں دکھائی نہیں دیتی۔
منتخب نظمیں
- AFRICA COME BACK
- آج بازار میں پابجولاں چلو
- آج کی رات
- آخری خط
- اب کے دیکھیں راہ تمھاری
- اقبال
- انتظار
- انتہائے کار
- انجام
- ایرانی طلبا کے نام
- ایک رہگزر پر
- ایک منظر
- اے حبیبِ عنبر دست!
- اے دلِ بیتاب ٹھہر!
- اے روشنیوںکے شہر
- بعد از وقت
- بنیاد کچھ تو ہو
- بول
- پیکنگ
- ترانہ
- تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں!
- تنہائی
- تہِ نجوم
- تین منظر
- جب تیری سمندر آنکھوں میں
- جشن کا دن
- چند روز اور مری جان
- حسن اور موت
- حسینۂ خیال سے!
- ختم ہوئی بارشِ سنگ
- خدا وہ وقت نہ لائے۔۔۔۔۔۔
- خوشا ضمانتِ غم
- درد آئے گا دبے پاؤں۔۔۔۔۔۔
- دریچہ
- دل سے پھر ہوگی مری بات
- دو عشق
- دور کتنی ہے ابھی صبح
- ربّا سچّیا
- رقیب سے
- رنگ ہے دل کا مرے
- زنداں کی ایک شام
- زنداں کی ایک صبح
- زندگی
- سردوِ شبانہ
- سرود
- سرودِ شبانہ – 2
- سِنکیانگ
- سوچ
- سیاسی لیڈر کے نام
- شام
- شاہراہ
- شہرِ یاراں
- شورشِ بربط و نَے
- شورشِ زنجیر بسم اللہ
- شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
- صبح آزادی – اگست 47ء
- طوق و دار کا موسم
- فکر دلداریِ گلزار کروں یا نہ کروں
- قید تنہائی
- کتے
- کہاں جاؤ گے
- لوح قلم
- متاع لوح و قلم چھن گئی
- مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
- مرثیہَ امام
- مرگِ سوز محبت
- مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
- مرے ہمدم، مرے دوست
- ملاقات
- ملاقات مری
- منزلیں، منزلیں
- منظر
- موضوعِ سخن
- نثار میں تیری گلیوں کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
- نوحہ
- ہارٹ اٹیک
- ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
- ہم خستہ تنوں سے محتسبو
- ہم لوگ
- واسوخت
- وے پردیسیا
- یاد
- یاس
- یہ فصل امیدوں کی ہمدم
منتخب غزلیں
- آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
- آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آگیا
- اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
- بات بس سے نکل چلی ہے
- بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
- پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے
- پھر لوٹا ہے خورشیدِ جہانتاب سفر سے
- تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے
- ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
- تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے
- تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
- تیری صورت جو دلنشیں کی ہے
- جمے گی کیسے بساطِ یاراں کہ شیشہ و جام بُجھ گئے ہیں
- چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے
- دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
- رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
- رنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام
- رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے
- روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں
- سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
- ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن، نہ تھی تری انجمن سے پہلے
- شاخ پر خونِ گل رواں ہے وہی
- شامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آ کے ٹل گئی
- شرحِ فراق، مدحِ لبِ مشکبو کریں
- شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارۂ شام
- شہر میںچاک گریباں ہوئے ناپید اب کے
- شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
- صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
- عجزِ اہل ستم کی بات کرو
- عشق منت کشِ قرار نہیں
- قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
- کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سے
- کب ٹھہرے گا درد اے دل، کب رات بسر ہو گی
- کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں
- کچھ دن سے انتظارِ سوال دگر میں ہے
- کچھ محتسبوں کی خلوت میں، کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے
- کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیں
- گرانیِ شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
- گرمیِ شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو
- گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
- نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں
- نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
- ہر حقیقت مجاز ہو جائے
- ہر سَمت پریشاں تری آمد کے قرینے
- ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
- ہمّتِ التجا نہیں باقی
- وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں
- وہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
- یادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراں
- یک بیک شورشِ فغاں کی طرح
- یہ جفائے غم کا چارہ، وہ نَجات دل کا عالم
- یوں بہار آئی ہے اس بار کے جیسے قاصد