احمد فراز
احمد فراز 1931ء میں کوہاٹ میں پیدا ہوۓ ۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لۓ فیچر لکھنے شروع کیے ۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ “تنہا تنہا” شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی ۔ اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ “درد آشوب ” چھپا جس کو پاکستان رائٹرز گڈز کی جانب سے “آدم جی ادبی ایوارڈ” عطا کیا گیا ۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوۓ ۔ انہیں 1976 ء میں اکا دکی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور میں انہیں مجبورا جلا وطنی اختیار کرنی پڑی ۔
منتخب نظمیں
- ؟؟؟
- اب کس کا جشن مناتے ہو
- ایسا نہیں ہونے دینا
- اے دل ان آنکھوں پر نہ جا
- اے عشق جنوں پیشہ
- ترانہ
- روزنا جرمن نژاد
- شکست
- شہر آشوب
- محاصرہ
- معبود
- من و تو
- میں نے اکثر تمہارے قصیدے لکھے
- نوحہ گر چُپ ہیں
- ہم اپنے خواب کیوں بیچیں
- وہ شام کیا تھی
- وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے
- یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
منتخب غزلیں
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
- اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں
- اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں
- اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
- اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں
- اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
- اس دورِ بے جنوں کی کہانی کوئی لکھو
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
- اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
- اُس کو جُدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
- اُس کی نوازشوں نے تو حیران کر دیا
- اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
- اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
- انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں
- ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
- ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
- ایک دیوانہ یہ کہتے ہوئے ہنستا جاتا
- اے خدا آج اسے سب کا مقدّر کر دے
- اے خدا جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دے
- باغباں ڈال رہا ہے گُل و گلزار پہ خاک
- بجھا ہے دل تو غمِ یار اب کہاں تو بھی
- بدن میں آگ سی چہرہ گلاب جیسا ہے
- برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
- پھرے گا تو بھی یونہی کو بکو ہماری طرح
- تپتے صحراؤں پہ گرجا، سرِ دریا برسا
- تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا
- تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
- تری یادوں کا وہ عالم نہیں ہے
- تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے
- تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو
- تو پاس بھی ہو تو دل بے قرار اپنا ہے
- تیرا غم اپنی جگہ دنیا کے غم اپنی جگہ
- تیری باتیں ہی سنانے آئے
- تیرے چرچے ہیں جفا سے تیری
- جانے نشّے میں کہ وہ آفت جاں خواب میں تھا
- جب ملاقات بے ارادہ تھی
- جُز تیرے کوئی بھی دِن رات نہ جانے میرے
- جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
- جہاں بھی جانا تو آنکھوں میں خواب بھر لانا
- جہاں کے شور سے گھبرا گئے کیا
- جو بھی دکھ یاد نہ تھا یاد آیا
- جو بھی قاصد تھا وہ غیروں کے گھروں تک پہنچا
- جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا
- جو سادہ دل ہوں بڑی مشکلوں میں ہوتے ہیں
- جو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہے
- چشم گریاں میں وہ سیلاب تھے اے یار کہ بس
- چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو
- چلو کہ کوچۂ دلدار چل کے دیکھتے ہیں
- چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے
- چلی ہے شہر میں کیسی ہوا اداسی کی
- خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
- خبر تھی گھر سے وہ نکلا ہے مینہ برستے میں
- دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
- دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
- دل بھی بُجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
- دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی
- دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں
- دل سُلگتا ہے مگر سوختہ جانی کم ہے
- دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
- دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
- دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے
- دیوانگی خرابیِ بسیار ہی سہی
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
- رونے سے ملال گھٹ گیا ہے
- زخم کو پھول تو صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
- زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
- ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے
- سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
- سکوت بن کے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیں
- سکوتِ شامِ خزاں ہے قریب آ جاؤ
- سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
- سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
- سنگ دل ہے وہ تو کیوں اس کا گلہ میں نے کیا
- سو دوریوں پہ بھی مرے دل سے جدا نہ تھی
- سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے
- شعار اپنا ہی جس کا بہانہ سازی تھا
- شعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
- شہرِ محبت ، ہجر کا موسم، عہد وفا اور میں
- صنم تراش پر آدابِ پر آدابِ کافرانہ سمجھ
- عجیب رت تھی کہ ہر چند پاس تھا وہ بھی
- عشق بس ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے ، یوں ہے
- غزل سُن کر پریشاں ہوگئے کیا
- فراز اب کوئی سودا کوئی جنوں بھی نہیں
- فقط ہنر ہی نہیں عیب بھی کمال کے رکھ
- کٹھن ہے راہ گزر، تھوڑی دور ساتھ چلو
- کچھ نہ کسی سے بولیں گے
- کروں نہ یاد اگر کس طرح بھلاؤں اسے
- کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
- کل پرسش احوال جو کی یار نے میرے
- کل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میں
- کل نالۂ قمری کی صدا تک نہیں آئی
- کل ہم نے بزمِ یار میں کیا کیا شراب پی
- کہا تھا کس نے تجھے آبرو گنوانے جا
- کوئی سخن برائے قوافی نہیں کہا
- کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرے
- کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں
- گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے
- گئے دنوں میں محبت مزاج اس کا تھا
- گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
- گُل بھی گلشن میں کہاں غنچہ دہن تم جیسے
- گماں یہی ہے کہ دل خود ادھر کو جاتا ہے
- مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا
- مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
- منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
- منزلیں ایک سی آوارگیاں ایک سی ہیں
- میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
- میں کہ پر شور سمندر تھے مرے پاؤں میں
- میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
- نئے سفر میں ابھی ایک نقص باقی ہے
- نبھاتا کون ہے قول و قسم تم جانتے تھے
- نہ تیرا قرب نہ بادہ ہے کیا کیا جائے
- نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو
- نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
- نہ کوئی تازہ رفاقت نہ یارِ دیرینہ
- نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
- ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
- ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے
- ہر کوئی جاتی ہوئی رت کا اشارہ جانے
- ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
- ہم اپنے آپ میں گم تھے ہمیں خبر کیا تھی
- ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
- ہم سے کہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھو
- ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
- ہوئے جاتے ہیں کیوں غم خوار قاتل
- ہونٹ ہیروں سے نہ چہرہ ہے ستارے
- وحشتِ دل صلۂ آبلہ پائی لے لے
- وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
- وفا کے باب میں الزام عاشقی نہ لیا
- وفا کے خواب، محبت کا آسرا لے جا
- وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میںستارے لے کر
- وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے
- وہی عشق جو تھا کبھی جنوں اسے روزگار بنا دیا
- یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
- یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت
- یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
- یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
- یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
- یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے